حدیث نمبر: 22954
٢٢٩٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد قال: أخبرنا نافع أن رجلين من أهل العراق (سألا) (١) ابن عمر بالأبواء (قالا) (٢): تركنا ابن الزبير يبيع أمهات الأولاد بمكة، فقال عبد اللَّه (بن عمر) (٣): (لكن) (٤) (أبو (حفص) (٥) عمر) (٦) -أتعرفانه؟ - قال: أيما رجل ولدت منه جارية فهي له ⦗١١٤⦘ متعة حياته، وهي حرة من بعد موته، وأيما رجل وطئ جارية ثم أضاعها فالولد له والضيعة عليه (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع سے مروی ہے کہ اہل عراق میں سے دو اشخاص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے الأبواء مقام میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے ابن زبیر کو مکہ میں اس حال پر چھوڑا کہ وہ ام ولد کی بیع کر رہے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا لیکن کیا تم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا : جس کی باندی اس سے حاملہ ہو کر بچہ جن دے وہ اس کے لئے اس کی زندگی میں نفع کا سامان ہے اور اس کے مرنے کے بعد وہ باندی آزاد ہے ، اور جس شخص نے باندی سے ہمبستری کی اور بچہ ضائع کردیا اور وہ بچہ اسی کا ہے اور بچہ ضائع کرنے کا وبال اسی پر ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: (سأل).
(٢) في [أ، ح، س، ط]: (قال).
(٣) سقط من: [أ، جـ، ح، ز].
(٤) في [أ، جـ]: (ذكر)، وسقط من: [ح، ط، هـ].
(٥) سقط من: [أ، ح].
(٦) سقط من: [ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22954
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد الأحمر صدوق، أخرجه البيهقي ١٠/ ٣٤٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22954، ترقيم محمد عوامة 22011)