٢٢٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن إسماعيل بن أبي خالد (١) عن الشعبي عن عبيدة عن علي قال: استشارني عمر في بيع أمهات الأولاد فرأيت أنا وهو إذا ولدت (عتقت) (٢)، فقضى به عمر (حياته) (٣) وعثمان من ⦗١١٣⦘ بعده، فلما وليت الأمر (من بعدهما) (٤) (رأيت) (٥) أن أرقها (٦).حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ام ولد کی بیع کے متعلق مشورہ طلب فرمایا۔ میری اور ان کی رائے یہ ہوئی کہ جب ام ولد بچہ جَنْ دے تو وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد کردی جائے گی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں اسی پر فیصلہ فرمایا : اور آپ رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی پر فیصلہ فرمایا، پھر جب ان کے بعد میں امیر المؤمنین بنا تو میں نے یہی بہتر سمجھا کہ اس کو باندی بنا دوں، حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن سیرین نے بیان فرمایا کہ میں نے حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا علی رضی اللہ عنہ نے ادراکِ اختلاف کے وقت جو قول اختیار کیا ہے اس سے زیادہ مجھے وہ رائے پسند ہے جو علی رضی اللہ عنہ اور عمر کی مشترکہ رائے تھی صحابہ کے مشورہ میں۔