مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأذان والإقامة
في المسافرين يؤذنون أو (تجزئهم) الإقامة؟ باب: کیا مسافر اذان دیں گے یا ان کے لیے اقامت ہی کافی ہے؟
حدیث نمبر: 2288
٢٢٨٨ - حدثنا محمد بن عبيد عن الأعمش عن مالك بن الحارث عن أبيه قال: كنا مع أبي موسى بعين التمر في دار البريد، فأذن وأقام، فقلنا له: (كيف) (١) ⦗٤٦٨⦘ (لو) (٢) خرجت إلى البرية؟ فقال: ذلك (وذا) (٣) سواء (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث فرماتے ہیں کہ ہم دار البریہ کے علاقے عین التمر میں حضرت ابو موسیٰ کے ساتھ تھے۔ انہوں نے اذان دی اور پھر اقامت کہی۔ ہم نے پوچھا کہ اگر آپ کسی ویرانے میں ہوں تو پھر بھی یونہی کریں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ جگہ اور وہ جگہ ایک جیسی ہیں۔
حواشی
(١) سقط من: [جـ، ك].
(٢) زيادة في [جـ، ك].
(٣) سقط: (وذا) في [ب] وفي [جـ]: (ذاك وذا).
(٤) مجهول؛ لحال الحارث، أخرجه البخاري في التاريخ ٤/ ٣٠٧، وأبو نعيم في كتاب الصلاة، وسعيد ابن منصور كما في فتح الباري ١/ ٣٣٦.