مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في (البينتين) إذا استوتا باب: اگر دونوں طرف سے گواہی قائم ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22778
٢٢٧٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: أخبرني أبي أن (ناسًا) (١) من (٢) فهم خاصموا (ناسًا) (٣) من (بني) (٤) سليم في معدن لهم إلى مروان، (فأمر) (٥) مروان ابن الزبير أن يقضي بينهم، (فاستوت) (٦) الشهود فأقرع بينهم عبد اللَّه، فجعله لمن أصابته القرعة من أجل أن الشهود استوت (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ قبیلہ فھم اور قبیلہ بنو سلیم کے لوگوں کے آپس میں ایک کان کے بارے میں جھگڑا ہوگیا، وہ لوگ اپنا جھگڑا لے کر مروان کے پاس چلے گئے، مروان نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں، جب فیصلہ کرنے لگے تو دونوں طرف سے گواہیاں برابر قائم ہوگئیں، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور دونوں طرف سے گواہیوں کے قائم ہونے کی وجہ سے قرعہ میں جس کا نام نکلا اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔
حواشی
(١) في [جـ، ز]: (أناسًا).
(٢) في [س] زيادة (بني).
(٣) في [جـ، ز]: (أناسًا).
(٤) في [ز]: (حي).
(٥) في [ز]: (وأمر).
(٦) في [جـ]: (واستوت).