مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في المكاتب يموت ويترك دينا وبقية من مكاتبته باب: مکاتب اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمہ بدل کتابت بھی ہو اور اُس پر قرض بھی ہو
حدیث نمبر: 22771
٢٢٧٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا مات المكاتب وعليه دين يضرب مواليه بما حل من نجومه (مع الغرماء) (١)، وإن لم يكن له نجم حال (بدئ بالغرماء) (٢) فأخذوا دينهم، فإن فضل شيء كان لمواليه حتى تتم مكاتبته، فإن فضل شيء بعد مكاتبته كان لورثته.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب غلام اس حال میں فوت ہو کہ اس پر قرض ہو تو اس کے آقا کو قرض خواہوں کے ساتھ رکھیں گے، قسطوں میں سے جو واجب الاداء ہے وہ پہلے دیں گے اور اگر اس پر فی الفور کوئی قسط لازم نہ ہو تو قرض خواہوں سے ابتداء کریں گے پس وہ اپنا قرض وصول کرلیں گے، اور اگر اس میں سے کچھ بچ جائے تو وہ آقاوں کو ملے گا یہاں تک کہ بدل کتابت مکمل ہوجائے اور اگر بدل کتابت ادا کرنے کے بعد بھی کچھ بچ جائے تو وہ اس کے ورثاء کے ملے گا۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [جـ، ز]: (بدأ الغرماء).