مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في بيع المجازفة لما قد علم كيله باب: جس چیز کی مقدار معلوم ہو اُس کو اندازے سے فروخت کرنا
حدیث نمبر: 22760
٢٢٧٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن (سليمان) (١) قال: قلت لأبي: الرجل يقول: قد كلت في هذه (الخابية) (٢) كذا وكذا منّا، ولا أدري لعله (ينقص أو يسرق) (٣) أو (تشتبه الخابية) (٤) أوكان فيه غلط، لا أبيعك كيلًا، إنما أبيعك جزافًا، قال: كان ابن سيرين يكرهه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت معتمر بن سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ ایک شخص کہنے لگا کہ میں نے اس مٹکے کو تولا ہے اس میں اتنے من ہے، اور مجھے نہیں معلوم شاید یہ کم ہوگیا ہو، یا اس میں سے چوری ہوگیا ہو یا پھر کسی اور مٹکے سے مل گیا ہو یا پھر اس میں کچھ غلطی ہوگئی ہو، میں اس کو کیل کر کے فروخت نہیں کروں گا، میں اس کو اندازاً فروخت کروں گا، اب اس بیع کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن سیرین نے اس کو ناپسند کیا اور حسن رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حواشی
(١) في [ط]: (سلمان).
(٢) في [هـ]: (الجايبة)، وفي [ط]: (الجابية).
(٣) في [جـ]: (نقص أو سرق).
(٤) في [أ، ح]: (نسيه الخابية)، وفي [ط]: (نسيه الجايية)، وفي [و]: (تشبه الجابية).