مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل تكون عنده الوديعة فيعمل بها لمن يكون ربحها باب: کسی شخص کے پاس امانت کا مال ہو وہ شخص اُس مال کو کاروبار میں لگا کر نفع کما لے تو وہ منافع کس کا شمار ہو گا؟
حدیث نمبر: 22737
٢٢٧٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة قال: سئل ابن عمر عن مال اليتيم فقال: هو مضمون حتى (تدفعه) (١) إليه، قال: إنه ⦗٦٦⦘ قد كان فيه فضل، [قال: اصنع بفضله ما شئت، هو مضمون حتى تدفعه إليه] (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یتیم کے مال کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ جب تک وہ واپس نہ کردیا جائے وہ مضمون (قابلِ ضمان) رہتا ہے، دریافت کیا گیا کہ اس میں کچھ منافع بھی ہے، فرمایا منافع کے ساتھ جو چاہے کرے لیکن یتیم کا مال جب تک واپس نہ کرے مضمون (قابلِ ضمان) رہے گا۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (يدفعه).
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [م].