مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل تكون عنده الوديعة فيعمل بها لمن يكون ربحها باب: کسی شخص کے پاس امانت کا مال ہو وہ شخص اُس مال کو کاروبار میں لگا کر نفع کما لے تو وہ منافع کس کا شمار ہو گا؟
حدیث نمبر: 22736
٢٢٧٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن ابن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم في الوديعة: لا ضمان عليه إلا أن يحولها (عن) (١) موضعها أو يغيرها عن حالها، فإن هو غيرها عن موضعها فكان فيه ربح فإنه يتصدق به، وليس لواحد منهما.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ امانت کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس پر اس وقت ضمان نہیں آئے گا جب تک وہ اس کو اس کی جگہ سے پھیر نہ دے یا اس کو اس کی حالت سے تبدیل نہ کر دے، اگر وہ اس کو اس کی حالت سے تبدیل کر دے اور اس کو کچھ منافع حاصل ہو تو اس کو نفع کو صدقہ کر دے وہ ان میں سے کسی کا نہیں ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ح، هـ]: (من).