٢٢٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن عمرو بن دينار عن (الحسن العرني) (١) رجل من أهل الكوفة أن رجلا قال: يا رسول اللَّه (أضرب يتيمي؟ قال) (٢): "أضربه مما كنت ضاربًا (منه) (٣) ولدك" قال: فما آكل من ماله؟ قال: "بالمعروف (٤) غير متأثل من ماله ولا (واقيًا) (٥) مالك بماله" (٦).حسن عزنی ایک کوفی شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں اپنے زیر تربیت یتیم کو مار سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو اتنا ہی مارو جتنا کہ اگر اس کی جگہ تمہارا اپنا بیٹا ہوتا تو اس کو مارتے، اس شخص نے عرض کیا کہ میں اس کے مال میں سے کتنا اور کیسے استعمال کرسکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھے اور معروف طریقے سے، اس کے مال کو ضائع کیے بغیر اور اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچائے بغیر استعمال کرسکتے ہو۔