مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأذان والإقامة
بها الرجل يؤذن ويقيم غيره باب: اذان ایک شخص دے اور اقامت کوئی دوسرا کہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2266
٢٢٦٦ - حدثنا يعلى قال: نا (الأفريقي) (١) عن زياد بن نعيم الحضرمي عن زياد بن الحارث الصدائي قال: كنت مع النبي ﷺ في سفر فأمرني فأذنت فأراد بلال أن يقيم، فقال النبي ﷺ: "إنَّ (أَخَا) (٢) (صُداءٍ) (٣) أَذَّنَ، (وَمَنْ أَذَّنَ) (٤) فَهْوَ يُقيمُ"، فأقمت (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن حارث صدائی کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ میں نے اذان دی۔ حضرت بلال نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ صداء کے بھائی نے اذان دی ہے، جو اذان دے وہی اقامت کہے۔ چناچہ پھر میں نے اقامت کہی۔
حواشی
(١) في حاشية [ب]: (عبد الرحمن بن زياد بن أنعم).
(٢) في [أ، جـ]: (بلال).
(٣) سقط من: [جـ]، وفي [أ]: (صدا).
(٤) سقط من: [ب].