مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من قال: إذا سمى الكيل والوزن فليكل باب: جب کیل اور وزن کو نام لے کر متعین کر لیا جائے تو پھر کیل کر دینا چاہیے
حدیث نمبر: 22645
٢٢٦٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي زائدة وابن أبي (غنية) (١) (عن عبد الملك بن أبي (غنية)) (٢) (٣) (عن الحكم) (٤) قال: قدم لعثمان طعام (على) (٥) عهد النبي ﷺ فقال: "اذهبوا بنا إلى عثمان نعينه على بيع طعامه"، فقام إلى جنبه وعثمان يقول: في هذه الغرارة كذا وكذا وأبيعها بكذا وكذا، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إذا سميت فكل" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے گندم وغیرہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چلو ہمارے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تاکہ گندم فروخت کرنے میں ہم ان کی مدد کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پہلو میں کھڑے ہوگئے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے کہ اس بوری میں اتنی اتنی گندم ہے اور میں اس کو اتنے اتنے میں فروخت کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم نام لے کر متعین کردو تو کیل کردیا کرو۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (عتبة).
(٢) في [أ، ح، ط]: (عتبة).
(٣) ساقطة من: [ح].
(٤) سقطت من: [جـ].
(٥) سقطت من: [ز].