حدیث نمبر: 22622
٢٢٦٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن ابن لهيعة عن خالد بن أبي عمران عن القاسم وسالم أنه سألهما عن (المقارض) (١) يأكل ويشرب ويكتسي ويركب بالمعروف، (قالا) (٢): إذا كان في سبب المضاربة (فلا بأس) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم اور سالم سے دریافت کیا گیا کہ مضارب ان پیسوں میں سے کھا پی سکتا ہے، سواری کرسکتا ہے اور کپڑے وغیرہ پہن سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر مضاربۃ کی وجہ سے ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔

حواشی
(١) في [ز]: (المضارب)، وفي [ط]: (القارض).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (قال).
(٣) في [ط]: (ولا بأس).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22622
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22622، ترقيم محمد عوامة 21710)