مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجلين يدعيان الشيء فيقيم هذا شاهدين ويقيم هذا رجلا باب: دو آدمی کسی چیز پر دعویٰ کریں پھر اُن میں سے ایک دو گواہ پیش کر دے اور دوسرا ایک گواہ پیش کرے تو کیا حکم ہے؟
٢٢٥٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عاصم بن كليب عن محمد ابن كعب قال: (بعت) (١) بغلة من رجل، (فلبث) (٢) ما شاء اللَّه، فأتاني وقد عرفت البغلة عنده، فأتينا شريحا وانطلقت (بالدابة) (٣)، فأقام سبعة من الشهود أنها دابته (٤) لم تبع ولم تهب، وجاء الآخر بستة من الشهود أنها دابته لم تبع ولم تهب، فقال شريح: أشهد (بأن) (٥) أحد الفريقين كاذب، فقسمها بينهم على ثلاثة (عشر سهمًا) (٦) أعطى كل واحد منهما بحصة (شهوده) (٧).حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک شخص کو خچر فروخت کیا، پس وہ جتنی دیر اللہ نے چاہا رہا، پھر وہ میرے پاس آیا، میں نے اس کے پاس خچر کو پہچان لیا، ہم دونوں حضرت شریح کے پاس آئے۔ میں اس جانورکو لے کر چل پڑا، ایک نے سات گواہ قائم کر دئیے کہ یہ اس کا جانور ہے ۔ اس کو نہ بیچا گیا ہے نہ ہبہ کیا گیا ہے، اور دوسرا آیا اس نے چھ گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا جانور ہے نہ اس کو بیچا گیا ہے نہ ہبہ کیا گیا ہے۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک فریق یقینا جھوٹا ہے۔ آپ نے اس کو ان کے درمیان تیرہ حصّوں میں تقسیم فرما دیا، ہر ایک کو اس کے گواہوں کے بقدر حصہ دیا۔