مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجلين يدعيان الشيء فيقيم هذا شاهدين ويقيم هذا رجلا باب: دو آدمی کسی چیز پر دعویٰ کریں پھر اُن میں سے ایک دو گواہ پیش کر دے اور دوسرا ایک گواہ پیش کرے تو کیا حکم ہے؟
٢٢٥٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي قال: كانت دابة في أيدي (أناس) (١) من الازد، فادعاها قوم فأقاموا البينة أنها ⦗٣٢⦘ دابتهم أضلوها في زمان عمر بن عبد العزيز، فأقام (الذين) (٢) هي في أيديهم البينة أنهم نتجوها، فرفع ذلك إلى قاضيهم عبد الرحمن بن (أذينة) (٣)، فجعل هؤلاء يغدون ببينة ويروح (الآخرون) (٤) بأكثر منهم [(فكتب) (٥) (في) (٦) ذلك إلى شريح] (٧) فكتب إليه: (لست) (٨) من التهاتر، والتكاثر في شيء، (و) (٩) (الذين) (١٠) (أقاموا) (١١) البينة أنهم نتجوها وهي في أيديهم أحق، (وأولئك) (١٢) أولى بالشبهة.حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ قبیلہ ازد کے لوگوں کے پاس ایک جانور تھا، اس پر ایک قوم نے دعویٰ کیا اور گواہ پیش کر دئیے کہ یہ ان کا جانور ہے، جو حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور میں گم ہوگیا تھا، اور جانور جن کے قبضہ میں تھا انہوں نے بھی گواہ پیش کر دئیے کہ وہ جانور ان کے ہاں پیدا ہوا ہے۔ معاملہ ان کے قاضی عبد الرحمن بن اذنیہ کے سامنے پیش ہوا، ان میں سے ایک فریق صبح آ کر گواہ پیش کرتا تو دوسرا فریق شام میں اس سے زیادہ گواہ پیش کردیتا، قاضی نے حضرت شریح رحمہ اللہ کو صورت حال لکھ کر بھیجی، حضرت شریح رحمہ اللہ نے لکھا کہ گواہوں کی کثرت کا اعتبار نہیں ہے، جنہوں نے گواہ پیش کئے ہیں کہ وہ ان کے ہاں پیدا ہوا ہے اور وہ جانور ان کے قبضے میں ہے وہ اس کے زیادہ حق دار ہیں۔