مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من (كره) أن يعطي الأرض بالثلث والربع باب: جو حضرات بٹائی پر زمین دینے کو ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 22575
٢٢٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي ابن مسهر عن الشيباني عن حبيب بن أبي ثابت قال: كنت جالسًا مع ابن عباس في المسجد الحرام إذ أتاه رجل (فقال) (١): إنا نأخذ الأرض من الدهاقين، فأعتملها ببذري وبقري، فآخذ حقي وأعطيه حقه، فقال له: خذ رأس مالك، (ولا تردد) (٢) عليه (شيئًا) (٣)، فأعادها عليه ثلاث مرات، كل ذلك يقول له هذا (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا ہوا تھا، آپ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہم جاگیر داروں سے زمین لیتے ہیں، اور اس میں اپنے دانہ اور بیل سے محنت کرتے ہیں اور ان سے اپنا حق وصول کرتے ہیں اور ان کو ان کا حق دے دیتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا صرف راس المال لیا کرو اس سے زیادہ نہ لیا کرو، اس نے تین مرتبہ آپ سے پوچھا آپ نے تینوں بار یہی جواب دیا۔
حواشی
(١) في [ز، ط]: (قال).
(٢) كذا في النسخ، وفي فتاوى السبكي ١/ ٤١٦، وفي تحقيق المراد للعلائي ص (١٢٣): (ولا ترد)، ويحتمل أنها: (ولا تزد).
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (عينًا).