حدیث نمبر: 22552
٢٢٥٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة وأبو الأحوص عن كليب ابن وائل قال: قلت لابن عمر: رجل له أرض وماء، وليس له بذر ولا بقر، فأعطاني أرضه بالنصف فزرعتها ببذري وبقري، ثم قاسمته على النصف قال: حسن (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت کلیب بن وائل فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ ایک شخص کی اپنی زمین اور پانی ہے لیکن اس کے پاس دانہ اور بیل نہیں ہے، اس نے اپنی زمین مزارعۃ بالنصف کے طور پر مجھے دی میں نے اپنے بیج اور بیل کے ساتھ کھیتی باڑی کی ( اور جو کچھ نکلا) اس کو نصف تقسیم کرلیا، ( ایسا کرنا ٹھیک ہے) ؟ آپ نے فرمایا بہت اچھا ہے۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22552
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كليب بن وائل صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22552، ترقيم محمد عوامة 21644)