مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري العبد أو الدار (فيستغلهما) باب: کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پر دے کر ان سے نفع حاصل کر ے
حدیث نمبر: 22495
٢٢٤٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب عن ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب في رجل باع دارًا (لابنه) (١)، وكان الأب (يرهق) (٢)، فجاء الابن إلى عمر بن عبد العزيز فأبطل بيعه وقضى له بالدار (فقال: غلتها؟) (٣)، وقال: غلتها بضمانها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ابو حبیب سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے بیٹے کا مکان فروخت کیا، اس کا باپ کم عقل تھا ، بیٹا حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس آیا تو آپ نے بیع کو باطل کردیا اور بیٹے کے لئے گھر کا فیصلہ فرمایا ۔ بیٹے نے سوال کیا کہ اس کے کرائے کا کیا ہوگا ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ اس کانفع ضمان کے ساتھ ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ح، هـ]: (لأبيه).
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط، هـ]: (يرهن)، ولعل المراد أنه كثير الضيفان.
(٣) سقط من: [أ، ح، هـ].