مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري العبد أو الدار (فيستغلهما) باب: کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پر دے کر ان سے نفع حاصل کر ے
حدیث نمبر: 22492
٢٢٤٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث العكلي في رجل اشترى دارًا فاستغلها ثم جاء رجل فاستحقها قال: لا (اجعل) (١) له من ⦗٨⦘ الغلة (شيئًا) (٢) -يعني المستحق، وفي (أشباه) (٣) هذا فيمن (استنقذ) (٤) من (يديه) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث عکلی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے مکان خریدا اور پھر اس کو کرایہ پردے کر نفع اٹھایا، پھر ایک شخص اس کا مستحق نکل آیا، آپ نے فرمایا میں اس کے لئے اس سے نفع اٹھانے پر کوئی ضمان لازم نہ کروں گا۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (يجعل).
(٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (شيء).
(٣) في [هـ]: (إسناده).
(٤) في [أ، هـ]: (استغل).
(٥) في [أ، ح، ط، هـ]: (بدنه).