مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجلين يختصمان في الشيء فيقيم أحدهما بينته باب: دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22469
٢٢٤٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد بن الحارث عن ابن أبي عروبة عن ⦗٥٤٢⦘ قتادة عن خلاس عن أبي رافع عن أبي هريرة أن رجلين اختصما إلى النبي ﷺ في دابة وليس (بينهما) (١) بينة، فأمرهما رسول اللَّه ﷺ أن يستهما على اليمين (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمی ایک جانور کے متعلق جھگڑتے ہوے حضور ﷺ کی خدمت میں آئے، دونوں کے پاس گواہ نہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ دونوں قسم کے بارے میں قرعہ اندازی کرلیں۔
حواشی
(١) في [ع]: (لهما).