مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري الجارية فيظهر بها العيب باب: کوئی شخص باندی خرید کر لائے بعد میں اس باندی میں عیب ظاہر ہو جائےq
حدیث نمبر: 22415
٢٢٤١٥ - حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا وكيع) (١) عن إسرائيل عن جابر عن عامر والحكم في رجل باع (من رجل) (٢) جارية فظفر بعيب، (فوضعاها) (٣) على يدي (عدل) (٤) فماتت، قالا: هي من مال البائع.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اور حضرت حکم رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے باندی خریدی اور اس میں عیب نکل آئے اور اس کو کسی عادل کے سپرد کردیا گیا، پھر وہ باندی مرگئی، اب اس کا کیا حکم ہے ؟ دونوں نے فرمایا کہ وہ بائع کے مال میں ہلاک ہوگی۔
حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٣) في [ح، ط، هـ]: (فوضعها).
(٤) في [م]: (رجل).