حدیث نمبر: 22414
٢٢٤١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن زكريا عن عامر أنه سئل عن رجل اشترى جارية فزعم أنها حبلى، فأنكر الذي باعها فوضعوا الجارية على يدي عدل حتى (يبين) (١) حملها فماتت، فقال: إن كان (تبين حملها فهي من مال البائع وإن) (٢)، لم (يكن تبين) (٣) حملها فهي من مال المشتري.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے باندی خریدی اور اس کا خیال تھا کہ یہ باندی حاملہ ہے، جبکہ بائع نے اس کا انکار کیا، باندی عادل شخص کے سپرد کردی گئی یہاں تک کہ اس کا حمل ظاہر ہوا وہ مرگئی تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر اس کا حمل ظاہر ہوجائے تو وہ بائع کے مال میں سے ہلاک ہوگی اور اگر حمل ظاہر نہ ہوا تو مشتری کے مال میں سے ہلاک ہوگی۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (تبين)، وفي [جـ]: (يتبين).
(٢) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، هـ].
(٣) في [أ، ح]: (يبين)، وفي [هـ]: (يتبين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22414
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22414، ترقيم محمد عوامة 21519)