مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري من الرجل السلعة ويقول: قد برئت إليك باب: کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22403
٢٢٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن دينار قال: قلت للحسن: أبيع السلعة وأتبرأ من القروح والجروح (والنغانغ) (١) والباطن ⦗٥٢٨⦘ والظاهر، فقال: لا تبرأ حتى تقول: في هذا العين كذا، وهذا كذا، وإلا رد عليك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے عرض کیا : مبیع فروخت کرنا یہ کہتے ہوئے کہ میں پھنسیوں سے، زخموں سے، ہاتھ اور پاؤں کے آبلوں سے اور ظاہر و باطن کے ہر عیب سے بری ہوں، یہ کہنا کیسا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تو بری نہیں ہوگا جب تک یہ نہ کہہ دے کہ اس آنکھ کے عیب سے اور اس چیز کے عیب سے بری ہوں، اگر ایسا نہ کہے تو مبیع کو تجھے واپس کیا جائے گا۔
حواشی
(١) النغانغ: لحم زائد في اللهات، وفي [هـ]: (النفائغ)، وفي [جـ]: (النطائع).
جاء في كتاب الحيوان (٣/ ٣٨٢)، وأبرأ للذي يبتاع مني * .. هلالًا من خصال فيه خمس * .. فمنهن النغانغ والمكاوي * .. وآثار الجروح وأكل ضرس.