مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري من الرجل السلعة ويقول: قد برئت إليك باب: کوئی شخص یہ کہتے ہوئے سامان فروخت کرے کہ میں ہر عیب سے بری ہوں، تو کیا حکم ہے؟
٢٢٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن سالم (أن) (١) ابن عمر باع غلامًا له بثمانمائة، قال: فوجد به المشتري عيبًا، فخاصمه إلى عثمان، فسأله عثمان فقال: بعته بالبراءة، فقال: (تحلف) (٢) باللَّه (لقد بعته ⦗٥٢٧⦘ و) (٣) ما به من عيب تعلمه، فقال: بعته بالبراءة، وأبى أن يحلف، فرده عثمان عليه فباعه بعد ذلك بألف وخمسمائة (٤).حضرت سالم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے آٹھ سو درہم میں ایک غلام فروخت کیا، مشتری نے اس غلام میں عیب پایا اور مخاصمہ کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت فرمایا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اسے بیچتے وقت کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے بیچتے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ میں اس کے ہر عیب سے بری الذمہ ہوں، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دوبارہ ارشاد فرمایا کہ آپ قسم اٹھائیں کہ میں نے اس کو غلام فروخت کیا اور اس میں بوقت فروخت کوئی عیب ایسا نہ تھا جو میرے علم میں ہو ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ غلام آپ کو واپس کروا دیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بعد میں وہی غلام پندرہ سو درہم میں فروخت کیا۔