حدیث نمبر: 22383
٢٢٣٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن في عبد بين رجلين، قال: كان يكره أن يكاتبه أحدهما إلا بإذن شريكه، فإن فعل قاسمه الذي لم يكاتب (١) كل شيء أخذ منه، فإذا استكمل الذي كاتبه ما كاتبه عليه عتق وسعى في نصف قيمته (للذي) (٢) لم يكاتبه والولاء بينهما.
مولانا محمد اویس سرور

حسن فرماتے ہیں جو غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو، اسے دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر مکاتب بنانا مکروہ ہے، اور اگر بغیر اجازت کے مکاتب بنا لیا تو جتنا مال پہلا شریک غلام سے وصول کرے گا وہ مال دوسرے شریک کے ساتھ تقسیم کرے گا، ، پھر غلام مکمل بدل کتابت ادا کر دے تو وہ آزاد ہوجائے گا اور جس آقا نے اس کو آزاد نہیں کیا تھا اس کے لئے نصف قیمت میں سعی کرے گا اور اس غلام کی ولاء دونوں کو ملے گی۔

حواشی
(١) في [ز]: زيادة (على).
(٢) في [أ، ط، هـ]: (الذي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22383
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22383، ترقيم محمد عوامة 21490)