مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري الغلام فيجد به قرعا أو صلعا باب: کوئی شخص غلام خریدے، پھر اس کے آدھے سر کو گنجا پائے یا گنجے پن کی بیماری میں مبتلا پائے تو کیا حکم ہے؟
٢٢٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: سمعته يحدث أن رجلًا اشترى من رجل غلامًا، فلما انصرف (١) إذا به قرع، فخاصم صاحبه إلى شريح قال: فقال: إني اشتربت من هذا هذا الغلام وبه قرع، فانظر إلى قرعه، فإن القرع لا يحدث، قال: فقال شريح: لا أجمع أن أكون قاضيًا وشاهدًا، (أره) (٢) غيري، ثم ائتني بهم فليشهدوا لك، وإلا فيمينه باللَّه: ما (باعكه) (٣) وبه هذا القرع.حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے غلام خریدا پھر جب وہ اس کو لے کر گیا تو وہ گنجا تھا، وہ شخص اس کے ساتھ جھگڑتے ہوئے حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس آیا ، اور عرض کیا کہ میں نے اس سے غلام خریدا تھا یہ تو گنجا ہے آپ اس کے گنجے پن کو دیکھئے، یہ گنجا پن کوئی نیا نہیں ہے۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا : میں یہ نہیں کرسکتا کہ فیصلہ بھی کروں اور گواہ بھی بنوں، میرے علاوہ کچھ اور لوگوں کو بھی دکھا دو ، پھر ان کے ساتھ میرے پاس آؤ تاکہ وہ تمہارے حق میں گواہی دیں وگرنہ بیچنے والا قسم اٹھائے گا کہ اس نے گنجے پن کے ساتھ نہیں بیچا تھا۔