مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يحجر على غلامه باب: کوئی شخص اگر غلام کو تصرف( تجارت) وغیرہ کرنے سے روک دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22359
٢٢٣٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن محمد بن قيس عن بكار (العتري) (١) أن رجلًا حجر على غلام له فرفع إلى علي فقال: كنت ترسله بدرهم يشتري به لحمًا قال: نعم، قال: فأجعله مأذونًا له (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکار العنزی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو تجارت سے روک دیا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس معاملہ لے گیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مالک سے دریافت کیا کہ کیا تو اسے درہم دے کر گوشت وغیرہ لینے بھیجتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ جی ہاں، یہ سن کر آپ نے اس غلام کو تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔
حواشی
(١) في [ح]: (العربي)، وفي [ط]: (الغرين)، وفي [ح، و]: (العتربي)، وفي [هـ]: (العنزي). وانظر: التاريخ الكبير (٢/ ١٢٠)، وتوضيح المشتبه (٦/ ٣٨٢).
(٢) مجهول؛ لجهالة بكار العتري.