مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الأمة تزعم أنها حرة باب: اگر کوئی باندی خود کو آزاد قرار دے (اور اس سے شادی کرلی جائے تو) کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22353
٢٢٣٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن أشعث عن الشعبي قال: سألته عن جارية أبقت (١) من أرض إلى أرض أخرى فأتت قومًا، فزعمت أنها ⦗٥١٧⦘ حرة، فرغب فيها رجل فتزوجها فولدت (له) (٢) أولادًا ثم علموا أنها أمة، فجاء مولاها فأخذها، قال: يأخذ المولى أمته، ويفدي الأبُ أولادهَ (بغرة) (٣) غرة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک باندی ایک شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر چلی گئی، اور ایک قوم کے پاس آ کر اپنے آپ کو آزاد ظاہر کیا، تو اس میں ایک شخص نے رغبت کی اور اس کو پسند کر کے اس کے ساتھ نکاح کرلیا اور اس سے کچھ بچے بھی ہوگئے، پھر پتہ چلا کہ وہ تو باندی ہے اور اس کا آقا بھی آگیا تو کیا وہ اس باندی کو لے جاسکتا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آقا اپنی باندی کو لے جائے گا اور اس کے بچوں کے باپ کے لئے غلام یا باندی ہے۔ ( اس کو غلام یا باندی دے گا) ۔
حواشی
(١) أي: هربت.
(٢) سقط من: [أ، ب، ح، هـ].
(٣) في [ز، هـ]: (بعد)، وفي [جـ]: (بكرة).