حدیث نمبر: 22319
٢٢٣١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن (الرؤاسي) (١) عن دينار قال: سألت الحسن: أعطي الصراف الدرهم بالبصرة وآخذ السفتجة، آخذ مثل دراهمي بالكوفة، فقال: إنما يفعل ذلك من أجل اللصوص، لا خير في قرض جر منفعة.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا : صراف کو بصر ہ میں دراہم دے کر اس سے رسید حاصل کی جاسکتی ہے ؟ اس جیسے دراہم کوفہ میں جا کر اس سے وصول کر لیئے جائیں ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : یہ چوروں کی وجہ سے ایسا کیا جاتا ہے، البتہ اس قرض میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہے جس میں نفع ( سود ) ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ط]: (الدواسي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22319
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22319، ترقيم محمد عوامة 21429)