حدیث نمبر: 22305
٢٢٣٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن ابن حرملة قال: بعت (جزورًا) (١) بدراهم إلى الحصاد، فلما (حل) (٢) (قضوني) (٣) الحنطة والشعير والسلت، فسألت سعيد بن المسيب فقال: لا يصلح، (لا) (٤) تأخذ إلا (الدراهم) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن حرملۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اونٹنی اس بات پر فروخت کی کہ کٹائی کے دن مجھے درہم بدلے میں چاہئیں۔ جب سپردگی کا وقت آیا تو میرے لیے گندم، جو اور گیہوں کا فیصلہ کیا تو میں نے حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ درست نہیں ہے، دراہم کے علاوہ کوئی چیز وصول نہ کرنا۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (جذورًا).
(٢) في [أ، ح]: (حصل).
(٣) في [ح]: (قصوى)، وفي [أ]: (قضوا).
(٤) في [ز]: (أن).
(٥) في [ح، ط]: (درهمًا)، وفي [ز]: (دراهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22305
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22305، ترقيم محمد عوامة 21416)