حدیث نمبر: 22245
٢٢٢٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن حماد بن زيد عن (بكر) (١) بن عثمان قال: كنت أشتري الزيادة في العطاء بخراسان بالحرير ⦗٤٩٤⦘ و (الدراهم) (٢)، فحججت فسألت سالما فقال: أكرهه (بالدراهم) (٣) وليس به بأس بالعروض.
مولانا محمد اویس سرور

بکر بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں خراسان میں ریشم اور دراہم کے بدلے عطاء کی زیادتی کو بیچا کرتا تھا۔ ایک سال میں نے حج کیا اور اس بارے میں حضرت سالم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں اگر سامان کے ساتھ ہوں۔ البتہ دراہم کے ساتھ میں مکروہ سمجھتا ہوں۔ حضرت محمد بن کعب اور حضرت عطاء نے بھی یہی جواب دیا۔ میں نے حسن اور حضرت ابن سیرین سے بھی سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے درہم کے ساتھ مکروہ سمجھتے ہیں البتہ سامان کے ساتھ کچھ حرج نہیں۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ز]: (بكير).
(٢) في [ط، هـ]: (الدرهم).
(٣) في [ح، هـ]: (بالدرهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22245
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22245، ترقيم محمد عوامة 21362)