حدیث نمبر: 22214
٢٢٢١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون عن نافع عن ابن عمر قال: أصاب عمر أرضا بخيبر فأتى النبي ﷺ فقال (١): أصبت أرضًا بخيبر لم أصب مالًا قط أنفس منه عندي، فما تأمرني؟ قال: (إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها)، قال: فتصدق بها، (غير) (٢) أنه لا يباع أصلها، ولا يوهب، ولا يورث (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ( مال غنیمت میں ) ملی، وہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اور مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ مال کبھی نہیں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : اگر تو چاہے تو اصل زمین کو روک کر رکھ لے اور اس کے ذریعہ صدقہ خیرات کرتا رہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ذریعہ صدقہ خیرات کیا۔ اصل زمین کو نہیں بیچا جائے گا اور نہ ہی ھبہ کیا جائے گا۔ نہ ہی وہ کسی کو وراثت میں دی جائے گی۔

حواشی
(١) في [ز]: زيادة (يا رسول اللَّه، إني).
(٢) في [هـ]: (عمر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22214
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٧٣٧)، ومسلم (١٦٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22214، ترقيم محمد عوامة 21333)