حدیث نمبر: 22124
٢٢١٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن ابن سيرين عن شريح أنه كان يقول في البيعين إذا اختلفا و (المبيع) (١) قائم بعينه: (سألهما) (٢) البينة، فإن أقام أحدهما البينة (أعطي) (٣) ببينته، وإن لم يكن لهما بينة استحلفهما، فإن جاءا (بها) (٤) جميعا رد البيع، وإن لم يحلفا رد البيع، (وإن) (٥) حلف أحدهما ونكل الآخر (أعطى) (٦) الذي حلف، وإن لم يكن ⦗٤٦٦⦘ (المبيع) (٧) قائما بعينه -أو قال: قد استهلك- يكلف البائع البينة، واليمين على المشتري.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بائع اور مشتری کا اختلاف ہوجائے اور مبیع بھی بعینہ موجود ہو تو دونوں سے گواہ طلب کریں گے، اگر ان میں سے کسی ایک نے گواہ پیش کر دئیے تو اس کے گواہوں کی وجہ سے اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر ان دونوں کے پاس گواہ نہ ہوں تو دونوں سے قسم اٹھوائی جائے گی، اور اگر دونوں قسم اٹھا لیں تو بیع ختم کردی جائے گی، اور اگر دونوں قسم اٹھانے سے انکار کردیں تو بھی بیع ختم کردیں گے، اور اگر ایک قسم اٹھا لے جبکہ دوسرا انکار کر دے تو جس نے قسم اٹھائی ہے اس کو دے دیا جائے گا، اور اگر مبیع بعینہ موجود نہ ہو یا وہ ہلاک ہوگیا ہو تو بائع کو گواہ کا مکلف بنائیں گے اور مشتری پر قسم اٹھانے کو لازم کریں گے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (البيع).
(٢) في [جـ، ز]: (يسألهما).
(٣) في [ز، ط]: (أعطاه).
(٤) في [أ، جـ، ح، ط]: (بهما).
(٥) في [جـ]: (فإن).
(٦) في [أ، هـ]: (فأعطى).
(٧) في [أ، ح، ط، هـ]: (البيع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22124
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22124، ترقيم محمد عوامة 21251)