حدیث نمبر: 22123
٢٢١٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: إذا اختلف البيعان وليس بينهما بينة و (المبيع) (١) قائم بعينه فالقول قول البائع، أو يترادان البيع، فإن كان (المبيع) (٢) قد استهلك فالقول قول المشتري، والبينة على البائع.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر بائع اور مشتری کا اختلاف ہوجائے اور ان دونوں کے پاس گواہ نہ ہوں، اور مبیع بھی اپنی حالت پر قائم ہو تو بائع کا قول معتبر ہوگا، اور بیع ختم کردی جائے گی، اور اگر مبیع ہلاک ہوجائے تو مشتری کی بات مانیں گے اور بائع کے ذمہ گواہ قائم کرنا ہوگا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ح، ط، هـ]: (البيع).
(٢) في [أ، ب، ح، ط، هـ]: (البيع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22123
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22123، ترقيم محمد عوامة 21250)