مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره إذا أسلم السلم أن يصرفه في غيره باب: جو حضرات اِس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ بیع سلم میں جب ثمن سپرد کر دیا جائے تو اُس کوکسی اور کام میں خرچ کر دے
حدیث نمبر: 22120
٢٢١٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن أبي عوانة عن داود بن عبد اللَّه عن أبي المخارق عن أبي هريرة قال: (أسلم) (١) المسلمون، فمن أسلم في حنطة فلا يأخذ شعيرا، ومن أسلم في (شعير فلا يأخذ) (٢) حنطة (كيل) (٣) معلوما إلى أجل (معلوم) (٤) (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے بیع سلم کی۔ لہٰذا اب جو کو یء بھی گندم میں بیع سلم کرے گا وہ جو نہیں لے سکتا اور جو کوئی جو میں بیع سلم کرے گا وہ گندم نہیں لے سکتا جس کا وزن اور مدت معلوم ہونی چاہیے۔
حواشی
(١) في [هـ]: (سلم).
(٢) سقط من: [أ، جـ، ح، ز، هـ].
(٣) في [أ، س، هـ]: (كيلًا).
(٤) سقط من [أ، ح، جـ، ز، و، هـ].
(٥) مجهول؛ لجهالة أبي المخارق.