مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
من كره أجر المعلم باب: جو حضرات معلّم کے اجرت لینے کو ناپسند کرتے ہیں
٢٢١١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع وحميد بن عبد الرحمن عن مغيرة ابن زياد عن عبادة بن نسي عن الأسود بن ثعلبة عن عبادة بن الصامت قال: علّمت ناسا من أهل الصفة: الكتابة والقرآن، فأهدى إلي رجل منهم قوسًا فقلت: (ليست) (١) بمال، وأرمي عنها في سبيل اللَّه، لآتين رسول اللَّه ﷺ فلأسألنه، فأتيته فقلت: يا رسول اللَّه! (رجل) (٢) أهدى (إليّ) (٣) قوسًا ممن كنت أعلمه الكتابة والقرآن، وليست بمال، وأرمي عنها في سبيل اللَّه، فقال: إن كنت تحب أن تطوق بها طوقًا من نار فاقبلها (٤).حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدرسہ صفہ کے کچھ طلبہ کو میں نے کتابت اور قرآن پاک کی تعلیم دی، ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی، پس میں نے یہ کہتے ہوے قبول کرلیا کہ یہ مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرتے وقت دشمن پر تیر برساؤں گا۔ میں نے کہا کہ میں ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھوں گا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی ہے ، کیونکہ میں نے اس کو کتابت اور قرآن کریم کی تعلیم دی تھی اور مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تو چاہتا ہے کہ کل قیامت کے دن یہ آگ کا طوق بنا کر تیرے گلے میں ڈالا جائے تو اس کو قبول کرلے۔