حدیث نمبر: 22110
٢٢١١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع وحميد بن عبد الرحمن عن مغيرة ابن زياد عن عبادة بن نسي عن الأسود بن ثعلبة عن عبادة بن الصامت قال: علّمت ناسا من أهل الصفة: الكتابة والقرآن، فأهدى إلي رجل منهم قوسًا فقلت: (ليست) (١) بمال، وأرمي عنها في سبيل اللَّه، لآتين رسول اللَّه ﷺ فلأسألنه، فأتيته فقلت: يا رسول اللَّه! (رجل) (٢) أهدى (إليّ) (٣) قوسًا ممن كنت أعلمه الكتابة والقرآن، وليست بمال، وأرمي عنها في سبيل اللَّه، فقال: إن كنت تحب أن تطوق بها طوقًا من نار فاقبلها (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدرسہ صفہ کے کچھ طلبہ کو میں نے کتابت اور قرآن پاک کی تعلیم دی، ان میں سے ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی، پس میں نے یہ کہتے ہوے قبول کرلیا کہ یہ مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرتے وقت دشمن پر تیر برساؤں گا۔ میں نے کہا کہ میں ضرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھوں گا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک شخص نے مجھے کمان ہدیہ میں دی ہے ، کیونکہ میں نے اس کو کتابت اور قرآن کریم کی تعلیم دی تھی اور مال نہیں ہے اس کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تو چاہتا ہے کہ کل قیامت کے دن یہ آگ کا طوق بنا کر تیرے گلے میں ڈالا جائے تو اس کو قبول کرلے۔

حواشی
(١) في [ح، هـ]: (ليس).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [هـ، س]: (لي).
(٤) مجهول؛ لجهالة الأسود بن ثعلبة، أخرجه أحمد (٢٢٦٨٩)، وأبو داود (٣٤١٦)، وابن ماجه (٢١٥٧)، والحاكم ٢/ ٤١، والبزار (٢٦٩٢)، والشاش (١٢٦٦)، والبيهقي ٦/ ١٢٥، والمزي ٣/ ٢٢٠، وعبد بن حميد (١٨٣)، والبخاري في التاريخ ١/ ٤٤٤، والبزار (٢٦٩٣)، والطحاوي ٣/ ١٧، والطبراني في مسند الشاميين (٢٢٥٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22110
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22110، ترقيم محمد عوامة 21237)