مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في (الرجلين) يختصمان فيدعى أحدهما على الآخر الشيء، على من (تكون) اليمين؟ باب: اگر دوآدمیوں کا جھگڑا ہو، ایک دوسرے پر کسی چیز کے حق کا دعویٰ کرے تو قسم کس پر ہوگی؟
٢٢٠٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق عن (عبد اللَّه) (١) قال: من حلف على يمين (٢) هو فيها فاجر (ليقطع) (٣) بها مال رجل مسلم لقي اللَّه وهو عليه غضبان، قال: الأشعث: فيّ واللَّه نزلت، كان بيني وبين رجل من اليهود أرض فجحدني، فقدمته إلى النبي ﷺ فقال (٤) رسول اللَّه ﷺ: "ألك بينة؟ " فقلت: لا، فقال (لليهودي) (٥): "احلف"، فقلت: إذن يحلف فيذهب بمالي، فأنزل اللَّه: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [آل عمران: ٧٧ (٦)] (٧).حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے یمین پر قسم کھائی اور کسی مسلمان کا مال حاصل کرنے کے لئے اس میں جھوٹ بولا تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوں گے، حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی {إنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللہِ وَأَیْمَانِہِمْ ثَمَنًا قَلِیلاً } میرے اور ایک یہودی کے درمیان زمین کا جھگڑا تھا، میں یہ مقدمہ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے میں نے کہا نہیں، آپ نے یہودی سے کہا کہ قسم کھاؤ، میں نے کہا کہ اس طرح تو یہ میرا مال لے جائے گا ! اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔