مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يكون له على الرجل الدين فلا يدرى أين هو؟ باب: اگر ایک آدمی نے کسی کا قرضہ دینا ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کہا ں ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22040
٢٢٠٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عامر (بن) (١) شقيق عن أبي وائل قال: اشترى عبد اللَّه جارية بسبعمائة درهم فغاب صاحبها (فعرفها) (٢) سنة (أو) (٣) قال: حولا -ثم خرج إلى المسجد وجعل يتصدق ويقول: اللهم فله، فإن ⦗٤٤٥⦘ (أبى) (٤) (فعليّ وإلي) (٥)، ثم قال: هكذا فاصنعوا باللقطة أو بالضالة (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے سات سو درہم میں ایک باندی خریدی، ابھی رقم کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی کہ باندی کا مالک غائب ہوگیا، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہایک سال تک اس کا اعلان کراتے رہے، پھر وہ مسجد گئے اور اس کی قیمت صدقہ کرنا شروع کی، ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ اے اللہ ! یہ اس کی طرف سے ہے، اگر وہ آگیا تو میری طرف اور مجھ پر لازم ہوگا، پھر فرمایا کہ ہرگری پڑی یا گمشدہ چیز کے ساتھ یونہی کیا کرو۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، س، هـ]: (عن).
(٢) في [س، هـ]: (وعرفها).
(٣) في [أ، ح، ط]: (و).
(٤) في [س، ط]: (أتى).
(٥) في [جـ، و]: (فإليّ وعليَّ).