مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري من الرجل الشيء فيدفع إليه بعض الشيء فلا يقبضه المشترى حتى يذهب عند البائع باب: اگر ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے، بائع کچھ چیز اس کے حوالے کردے لیکن مشتری اس پر قبضہ نہ کرے پھر وہ چیز بائع کے پاس ضائع ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21885
٢١٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن ومحمد قالا: إن كان نقد بعض الثمن وارتهن المتاع بالبقية، فهلك المتاع فهو بما ارتهنه، وله ما كان قد أخذ، فإن كان بيعا مما يكال ويوزن (فضمانه) (١) على البائع حتى يوفيه المشتري.مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد فرماتے ہیں کہ اگر قیمت کا کچھ حصہ نقد دے دیا تھا اور باقی حصہ کے بدلے سامان رہن کے طور پر رکھوا دیا ، پھر سامان ہلاک ہوگیا تو وہ اس چیز کے بدلے ہوگا جو مزید دینی تھی اور بائع جو وصول کرچکا ہے وہ اسی کا ہوگا، اگر کوئی چیز ایسی تھی جسے تولایاماپا جاتا ہے تو اس کا نقصان بائع کے ذمہ ہوگا یہاں تک کہ مشتری اسے پورا کرلے۔
حواشی
(١) في [ك، و]: (فنقضانه)، وفي [ز]: (نقصانه)، وفي [هـ]: (يقضى به)، وانظر: مصنف عبد الرزاق (١٤٢٤٦).