مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يشتري من الرجل الشيء فيدفع إليه بعض الشيء فلا يقبضه المشترى حتى يذهب عند البائع باب: اگر ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے، بائع کچھ چیز اس کے حوالے کردے لیکن مشتری اس پر قبضہ نہ کرے پھر وہ چیز بائع کے پاس ضائع ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21884
٢١٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن منصور عن إبراهيم في رجل اشترى من رجل جارية فنقد بعض ثمنها وأمسكها البائع بالبقية فماتت، قال: يرد على المشتري ما أخذ، وهي من مال البائع.مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے ایک باندی خریدی، قیمت کا کچھ حصہ تو نقد ادا کردیا اور باقی مال کے بدلے وہ بائع کے پاس رکھوا دی، پھر اس باندی کا انتقال ہوگیا تو اس بارے میں ابراہیم نے فرمایا کہ مشتری سے لی گئی رقم اس کو واپس کی جائے گی اور نقصان بائع کے مال میں سے ہوگا۔