مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في العارية من كان لا يضمنها ومن كان (يفعل) باب: عاریہ(مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
٢١٧٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن (إياس ابن عبد اللَّه) (١) بن صفوان أن صفوان هرب من رسول اللَّه ﷺ فأرسل إليه رسول ⦗٣٩٥⦘ اللَّه ﷺ، (فأمنه وأسلم) (٢) وكان رسول اللَّه ﷺ يريد حنينا فقال: يا صفوان! هل (لك) (٣) من سلاح؟ قال: عارية أم غصبا؟ قال: لا! بل عارية، فأعاره ما بين الثلاثين إلى الأربعين درعًا، وغزا رسول اللَّه ﷺ حنينا، فلما هَزَمَ (المشركين) (٤) جمعت دروع صفوان، ففقد منها أدراعا، فقال (٥) رسول اللَّه ﷺ: "يا صفوان! إنا (٦) فقدنا من أدراعك أدراعا فهل نغرم لك"؟ فقال: (لا) (٧) يا رسول اللَّه (٨) إن في قلبي اليوم ما لم يكن (٩).حضرت عبد اللہ بن صفوان کی اولاد کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت صفوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھاگ گئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف آدمی بھیجا، انہیں امان دیا اور انہوں نے اسلام قبول کرلیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کی طرف جارہے تھے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اے صفوان تمہارے پاس ہتھیار ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ عاریہ کے طو رپر چاہئے یا غصب کے طور پر، حضور ﷺ نے فرمایا کہ عاریہ کے طور پر، پس حضرت صفوان نے تیس زرہیں بطور عاریہ کے پیش کردیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی لڑائی لڑی، جب مشرکین کو شکست ہوگئی تو حضرت صفوان کی زرہیں جمع کی گئیں، چند زرہیں کم تھی، حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے صفوان ! ہم نے تمہاری کچھ زرہیں کھو دی ہیں، کیا ہم آپ کے لئے ان کی متبادل زرہوں کا انتظام کردیں ؟ حضرت صفوان نے فرمایا کہ نہیں اے اللہ کے رسول ! جو چیز میرے دل میں آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔