مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في العارية من كان لا يضمنها ومن كان (يفعل) باب: عاریہ(مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
حدیث نمبر: 21776
٢١٧٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن (شباك) (١) قال: استعارت امرأة خواتيم فأرادت أن تتوضا فوضعتها في حجرها فضاعت، فارتفعوا إلى شريح فقال: إنما استعارت لتردها فخالفت، فضمنها شريح.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شباک فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے کسی سے انگوٹھیاں استعمال کے لئے حاصل کیں، ایک دن وہ وضو کرنے لگی تو اس نے انگوٹھیاں اپنی گود میں رکھ دیں، انگوٹھیاں کہیں گرگئیں، یہ مقدمہ قاضی شریح کی عدالت میں پیش ہوا، ان سے کہا گیا کہ یہ انگوٹھیاں اس نے عاریہ کے طور پر لی تھیں تاکہ واپس کرے، اب اس نے معاہدے کی مخالفت کی ہے، حضرت شریح نے اس کا ضمان مقرر کیا۔
حواشی
(١) في [أ، ز، هـ]: (سماك).