مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في العارية من كان لا يضمنها ومن كان (يفعل) باب: عاریہ(مانگی ہوئی چیز) کا ضمان
حدیث نمبر: 21773
٢١٧٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن سوادة بن زياد قال: (كتبت) (١) إلى عمر بن عبد العزيز في امرأة استعارت (حليا لعرس) (٢) (فهلك) (٣) الحلي، فكتب عمر بن عبد العزيز: لا ضمان عليها إلا أن تكون (بغتة) (٤) غائلة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوادہ بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز کے نام خط لکھا کہ ایک عورت نے شادی کے لئے کسی سے زیور مانگا، پھر وہ زیور ضائع ہوگیا۔ اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر عورت نے اس میں کوئی خیانت نہیں کی تو ضمان نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (كتب).
(٢) في [أ، هـ]: (حلي العرس).
(٣) في [هـ]: (فهدى).
(٤) في [هـ]: (نفثة)، وفي [جـ]: (نعتة)، وفي [أ]: (نفته).