مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في المرأة يكون لها على زوجها مهر فيموت وعليه دين باب: اگر ایک عورت کا مہر اس کے خاوند پر لازم ہو اور وہ مرجائے، جبکہ اس پرکچھ قرضہ بھی ہو تو کیاحکم ہے؟
حدیث نمبر: 21761
٢١٧٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن (المبارك) (١) عن أسامة بن زيد عن نافع عن ابن عمر قال: إذا توفي الرجل وعليه (دين و) (٢) صداق امرأته فهي ⦗٣٩٠⦘ أسوة الغرماء، فإن كان في بيته زيت أو قمح أو غير ذلك فهو للورثة إلا أن يكون سماه للتي دخل بها وهو صحيح (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی فوت ہوجائے اور اس پر اس کی بیوی کا مہر لازم ہو تو وہ عورت بھی قرض خواہ ہوں میں سے ایک ہوگی، اگر اس آدمی کے گھر میں تیل یا گندم وغیرہ ہوں تو وہ ورثہ کے لئے ہوں گے اور اگر کوئی چیز اس نے حالت صحت میں اپنی منکوحہ بیوی کے لئے مقرر کردی ہو تو ٹھیک ہے۔
حواشی
(١) في [ز، جـ]: (مبارك).
(٢) سقط من [أ، جـ، ط، س، ع].