مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
في الرجل يساوم الرجل بالشيء (ولا) يكون عنده باب: ایسی چیز کا معاملہ کرنا جو آدمی کے پاس موجود نہ ہو
حدیث نمبر: 21725
٢١٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن أبي بشر عن يوسف بن ماهك عن حكيم بن حزام قال: قلت: يا رسول اللَّه! الرجل يأتيني ويسألني البيع ليس عندي (ما) (١) أبيعه منه، (أبتاعه) (٢) له من السوق؟ قال: فقال: لا تبع ما ليس عندك (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن حزام فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! ایک آدمی میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے اس چیز کی بیع کا سوال کرتا ہے جو میرے پاس موجود نہیں ہے، کیا میں اس سے معاملہ کرکے وہ چیز بازار سے لے کر اسے بیچ سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس چیز کو نہ بیچو جو تمہارے پاس نہ ہو۔
حواشی
(١) سقط (ما) من [أ، ب، س، هـ].
(٢) في [أ، و]: (ابتاع).
(٣) منقطع؛ يوسف لا يروي عن حكيم، أخرجه أحمد (١٥٣١١)، والترمذي (١٢٣٢)، وأبو داود (٣٥٠٣)، والنسائي (٧/ ٢٨٩)، وابن ماجه (٢١٨٧)، وأبو داود (٣٥٠٣)، والطيالسي (١٣٦٠)، والطحاوي في شرح المشكل (٢٠٤)، والبيهقي ٥/ ٣١٧، والطبراني (٣٠٩٩)، وعبد الرزاق (١٤٢١٤)، والخطيب ١١/ ٤٢٥.