حدیث نمبر: 21724
٢١٧٢٤ - حدثنا أبو بكر (١) قال: حدثنا [وكيع قال: حدثنا] حسن بن صالح عن زهير العبسي أن رجلا استأجر رجلا يعمل على بعير فضربه ففقأ عينه فخاصمه إلى شريح فضمنه وقال: إنما استأجرك لتصلح ولم يستأجرك لتفسد.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زہیر عنسی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو اونٹ پر کام کرنے کے لئے کرائے پر لیا، اس نے اونٹ کو ایسا مارا کہ اس کی آنکھ پھوڑ دی، وہ آدمی اس کا مقدمہ لے کر حضرت شریح کی عدالت میں گیا تو حضرت شریح نے اسے ضامن قرار دیا اور فرمایا کہ تمہیں کام سنوارنے کے لئے اس نے مزدوری پر رکھا تھا کام بگاڑنے کے لئے نہیں رکھا تھا !

حواشی
(١) لعله ابن عياش.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21724
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21724، ترقيم محمد عوامة 20873)