مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري من الرجل (المبيع) فيقول: إن كان بنسيئة فبكذا، وإن كان نقدا (فبكذا) باب: ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے: اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کاکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21675
٢١٦٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا الثقفي عن أيوب عن محمد أنه كان يكره أن يستام الرجل بالسلعة (يقول) (١): هي بنقد بكذا و (بنسيئة) (٢) بكذا.مولانا محمد اویس سرور
محمد اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ آدمی سامان کے بارے میں یوں کہے کہ نقد اتنے کا اور ادھار اتنے کا۔
حواشی
(١) في [س]: (تقول).
(٢) في [أ، ب]: (بنسية)، وفي [س]: (بنسئة).