مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري من الرجل (المبيع) فيقول: إن كان بنسيئة فبكذا، وإن كان نقدا (فبكذا) باب: ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے: اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کاکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21673
٢١٦٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) أبو الأحوص عن سماك عن أبي عبيدة أو عن عبد الرحمن بن عبد اللَّه عن ابن مسعود قال: صفقتان في صفقة ربا (إلا) (٢) أن يقول الرجل: إن كان بنقد فبكذا، (و) (٣) إن كان (بنسيئة) (٤) فبكذا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک معاملے میں دو معاملے سود ہیں، البتہ اگر آدمی یوں کہے کہ نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کی تو یہ درست ہے۔
حواشی
(١) في [ك، ز]: (نا).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [س]: (أو).
(٤) في [أ، ب]: (بنسية)، وفي [جـ، ط، س]: (بنسئة).
(٥) منقطع؛ رواية أبي عبيدة عن أبيه منقطعة.