مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البيوع والأقضية
الرجل يشتري من الرجل (المبيع) فيقول: إن كان بنسيئة فبكذا، وإن كان نقدا (فبكذا) باب: ایک آدمی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے اور کہے: اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اتنے کی اور اگر نقد ہو تو اتنے کی، اس صورت کاکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21672
٢١٦٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن (زكريا) (١) بن أبي زائدة عن أشعث عن عكرمة عن ابن عباس قال: لا بأس أن يقول للسلعة: هي بنقد بكذا وبنسيئة (بكذا) (٢) ولكن لا يفترقا إلا عن رضا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اگر بیچنے والا سامان کے بارے میں یوں کہے کہ یہ نقد اتنے کا اور ادھار اتنے کا ہے تو اس میں کچھ حرج نہیں، البتہ جدائی کے وقت رضامندی کا ہونا ضروری ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [س]: (هكذا).