حدیث نمبر: 21659
٢١٦٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن أبي زائدة عن ابن عون عن أنس بن سيرين قال: قلت لابن عمر: البعير بالبعيرين (١)، (قال) (٢): [يدًا بيد؟ فقلت: لا، (إلى أجل) (٣)، قال: فكرهه] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ کیا ایک اونٹ کو دواونٹوں کے بدلے دینا درست ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ فوری ادائیگی کے ساتھ ہوگا ؟ میں نے کہا نہیں، انہوں نے اسے مکروہ قرار دیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: (يد بيد)، وفي [جـ، ز، س، ط]: (يدًا بيد).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، هـ].
(٣) سقط من: [أ، ب، س، ز، ط، هـ].
(٤) في [هـ]: بدل ما بين المعكوفين (إلى أجل فكرهه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21659
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21659، ترقيم محمد عوامة 20813)