حدیث نمبر: 21639
٢١٦٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن أسامة بن زيد قال: سمعت سعيد بن المسيب وسئل عن رجل اشترى بعيرا، فندم المبتاع فأراد أن يرده (ويرد) (١) معه ثمانية (دراهم) (٢)، فقال سعيد: لا بأس به، إنما الربا فيما يكال ويوزن (مما) (٣) يؤكل ويشرب.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن مسیب سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی نے اونٹ خریدا پھر اسے اس معاملے پر افسوس ہوا، وہ اونٹ واپس کرتا ہے ساتھ آٹھ دراہم بھی دیتا ہے، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ حضرت سعید نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں، سود ان چیزوں میں ہوتا ہے جن کا کیل یا وزن کیا جاتا ہے یا جب کھائی اور پی جاتی ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [ك]: (درهم).
(٣) في [أ، ب، س، ز، ط، ك]: (ما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21639
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21639، ترقيم محمد عوامة 20794)